ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ پوری دنیا کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے متعلق روس کے انتباہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور موجودہ صورتحال کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔
روسی نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران ممکنہ خطرات کے حوالے سے جو انتباہ جاری کیا، اس کا مقصد عالمی برادری کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ “اجتماعی مغرب” زیلنسکی کے بیانات اور دھمکیوں کو نظر انداز کر رہا ہے اور مسلسل سیاسی، مالی اور عسکری حمایت فراہم کر رہا ہے، جبکہ روس کے مطابق یوکرینی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات انتہائی خطرناک نوعیت کے ہیں۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ روسی وزارت دفاع کی جانب سے 8 اور 9 مئی کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ عظیم محبِ وطن جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی 81ویں سالگرہ پُرامن انداز میں منائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ روس نے توقع ظاہر کی تھی کہ یوکرین بھی جنگ بندی کی پاسداری کرے گا، تاہم اگر ماسکو میں یومِ فتح کی تقریبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو روس جوابی کارروائی کرے گا۔
روسی ترجمان کے مطابق یہ صرف بیانات نہیں بلکہ واضح انتباہات ہیں، جنہیں عالمی برادری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
زخارووا نے کہا کہ روس نے مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کو سفارتی ذرائع سے صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے اور زور دیا ہے کہ اس معاملے پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس ان اقدامات کو یوکرینی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والی ممکنہ جارحانہ دھمکیوں کے جواب کے طور پر دیکھتا ہے۔
روسی حکام کے مطابق یومِ فتح روس کے لیے تاریخی، قومی اور جذباتی اہمیت کا حامل دن ہے، جسے ہر سال 9 مئی کو بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔









