یوکرین جنگ اپنے اختتام کے قریب، روس امن معاہدے کے لیے تیار ہے: صدر پوتن

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے، جبکہ روس حتمی امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کسی بھی ملک میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ ملاقات صرف حتمی معاہدے پر دستخط کے مقصد کے لیے ہونی چاہیے۔

ماسکو میں یومِ فتح کی تقریبات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس کا بنیادی مقصد اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی روس کو خطرہ نہ دے سکے۔

انہوں نے بتایا کہ روس نے یوکرین کے ساتھ جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پہلے ہی تجاویز دے رکھی ہیں، تاہم اب تک کیف کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پوتن کے مطابق روس نے پانچ مئی کو پانچ سو قیدیوں کی فہرست یوکرینی حکام کو بھجوائی تھی۔

روسی صدر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 9 سے 11 مئی تک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز “انسانی بنیادوں پر مناسب اقدام” تھی، جسے روس نے فوری طور پر قبول کر لیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس یومِ فتح کی تقریبات کے دوران ممکنہ حملوں کے جواب میں کیف کے مرکزی علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے لیے تیار تھا، اگر تقریبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی۔

پوتن کے مطابق روس نے اس ممکنہ صورتحال سے متعلق چین، بھارت، امریکا اور دیگر شراکت دار ممالک کو بھی آگاہ کیا تھا۔

صدر پوتن نے کہا کہ امریکی انتظامیہ یوکرین تنازع کے حل میں واقعی دلچسپی رکھتی ہے، تاہم یہ معاملہ بنیادی طور پر روس اور یوکرین کے درمیان ہے۔

انہوں نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ نیٹو کی توسیع کے حوالے سے روس کو دھوکہ دیا گیا، جو یوکرین بحران کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ وہ زیلنسکی سے ملاقات سے نہ انکار کر رہے ہیں اور نہ خود اس کی تجویز دے رہے ہیں، لیکن اگر کوئی ایسی تجویز آتی ہے تو روس بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔

پوتن نے ایران کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ روس کی جانب سے ایرانی افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق تجاویز اب بھی میز پر موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں