پاکستانی تعلیمی وفد قازان فورم 2026 میں شرکت کے لیے روس روانہ، روس۔پاکستان تعلقات پر اہم کانفرنس منعقد ہوگی

اسلام آباد(وائس آف رشیا) پاکستان کا ایک ممتاز علمی و تعلیمی وفد روس کے شہر قازان میں منعقد ہونے والی دوسری روس۔پاکستان بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے روس روانہ ہو گیا ہے۔ یہ اہم کانفرنس 12 سے 17 مئی 2026 تک “روس۔اسلامک ورلڈ قازان فورم 2026” کے موقع پر “تبدیل ہوتے عالمی نظام میں روس۔پاکستان تعلقات کا ارتقا” کے عنوان سے منعقد ہوگی۔

کانفرنس کا انعقاد مشترکہ طور پر روس کی قازان فیڈرل یونیورسٹی (KFU) اور وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی (FUUAST) اسلام آباد کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) اور کنسورشیم فار ایشیا پیسفک اینڈ یوریشین اسٹڈیز (CAPES) اس کے شراکت دار ہیں۔

پاکستانی وفد میں ملک کی معروف جامعات، تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شامل ہیں، جن میں منہاج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، ویمن یونیورسٹی صوابی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر غزالہ یاسمین، سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ سید فیصل علی شاہ، اور وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات و ماس کمیونیکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل جاوید شامل ہیں، جو کانفرنس کے فوکل پرسن بھی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان بھر سے متعدد اسکالرز، محققین، پالیسی ماہرین اور علمی شخصیات بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

کانفرنس میں پاکستان، روس اور دیگر ممالک کے ماہرین، سفارتکار، پالیسی ساز اور محققین جیوپولیٹکس، یوریشین روابط، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، ثقافتی سفارتکاری اور تعلیمی اشتراک سمیت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر برائے عوامی امور رانا مبشر اقبال بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے، جبکہ وزیرِ مملکت طلحہ برکی مہمانِ اعزازی ہوں گے۔

کانفرنس سے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خوروف اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری بھی خطاب کریں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ کانفرنس پاکستان اور روس کے درمیان علمی سفارتکاری، تعلیمی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ یوریشین مطالعات اور دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ کانفرنس فروری 2025 میں کراچی میں منعقد ہونے والی پہلی روس۔پاکستان بین الاقوامی کانفرنس کا تسلسل ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون میں مزید وسعت آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں