جنگ بندی ختم، روس یوکرین آپریشن جاری رکھے گا، پوتن زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار: دیمتری پیسکوف

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یومِ فتح کے موقع پر اعلان کردہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور روس یوکرین میں اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا، تاہم ماسکو اب بھی مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔

ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکا کی ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور صدر ولادیمیر پوتن واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ روس مذاکرات کے لیے کھلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور امن عمل اختتام کے قریب محسوس ہو رہا ہے، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی تاریخ یا معاہدے کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

پیسکوف کے مطابق 9 سے 11 مئی تک نافذ کی گئی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور روسی فوجی آپریشن دوبارہ جاری ہے۔

کریملن ترجمان نے کہا کہ خصوصی فوجی آپریشن “کسی بھی وقت” رک سکتا ہے، اگر کیف حکومت اور ولادیمیر زیلنسکی ضروری فیصلے کرنے کی ذمہ داری قبول کریں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرینی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کون سے فیصلے ضروری ہیں۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کسی بھی وقت ماسکو میں زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم ماسکو سے باہر ایسی ملاقات صرف اسی صورت معنی رکھتی ہے جب امن معاہدے کو حتمی شکل دینا مقصود ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس مقصد کے لیے کافی ابتدائی کام باقی ہے۔ روسی ترجمان نے کہا کہ صدر پوتن رواں ہفتے اقتصادی امور پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جبکہ چین کا آئندہ دورہ بھی انتہائی اہم اور جامع نوعیت کا ہوگا۔

پیسکوف کے مطابق روس اور چین اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں اور دورے کی تاریخوں کا اعلان دونوں ممالک بیک وقت کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صدر پوتن روس۔اسلامک ورلڈ قازان فورم میں شرکت نہیں کریں گے۔

معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کریملن ترجمان نے کہا کہ عالمی معاشی سست روی کے باوجود روسی حکومت معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ روس عالمی معاشی اتار چڑھاؤ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث روسی معیشت میں مستحکم اور بتدریج ترقی کی توقع موجود ہے۔

بحیرہ بالٹک کی صورتحال پر دیمتری پیسکوف نے الزام عائد کیا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کی بڑی وجہ نیٹو بحری افواج کی سرگرمیاں ہیں، نہ کہ روس۔

انہوں نے کہا کہ روسی بحریہ عالمی سمندروں میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جن میں بحری قزاقی کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں