روس اپنے اسٹریٹجک جوہری میزائل نظام کو مزید جدید بنائے گا: صدر پوتن

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ سوویت دور میں راکٹ انجینئرنگ کے شعبے میں ہونے والی ترقی آج بھی روس کے دفاعی نظام کی بنیاد ہے، جبکہ روس مستقبل میں اپنے اسٹریٹجک جوہری میزائل نظام کو مزید جدید اور طاقتور بناتا رہے گا۔

صدر پوتن نے ماسکو انسٹیٹیوٹ آف تھرمل ٹیکنالوجی کے دورے کے دوران ادارے کے ملازمین کو “آرڈر آف ویلنٹ لیبر” سے نوازا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی نسلوں کی انتھک محنت نے روس میں ایک خودمختار میزائل سائنس اسکول کی بنیاد رکھی، جس نے ملکی دفاع کو مضبوط بنانے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سوویت دور میں تیار کی گئی ٹیکنالوجی اور دفاعی بنیاد آج بھی استعمال ہو رہی ہے اور اس نے روس کو دہائیوں تک مضبوط دفاعی صلاحیت فراہم کی۔

روسی صدر نے کہا کہ ماسکو انسٹیٹیوٹ آف تھرمل ٹیکنالوجی نے نہ صرف روس کے دفاعی نظام بلکہ جدید میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

پوتن نے اعلان کیا کہ روس اپنی اسٹریٹجک جوہری قوت کو مسلسل جدید بنائے گا اور ایسے نئے میزائل نظام تیار کرے گا جو موجودہ اور مستقبل کے تمام میزائل دفاعی نظاموں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر جوہری بیلسٹک میزائلوں پر مشتمل موبائل میزائل کمپلیکس بھی خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

صدر پوتن کے مطابق یہ میزائل سسٹمز روسی فوج کی جنگی صلاحیت میں اہم اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے ادارے کی جانب سے شہری شعبوں کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات کو بھی سراہا، جن میں تیل اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔

ماسکو انسٹیٹیوٹ آف تھرمل ٹیکنالوجی روسی دفاعی صنعت کے اہم ترین اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں “ٹوپول”، “ٹوپول-ایم”، “یارس” اور “بولاوا” جیسے اسٹریٹجک جوہری میزائل نظام تیار کیے گئے۔

یہ ادارہ اس وقت روسی خلائی ادارے “روس کاسموس” کے ماتحت کام کر رہا ہے اور اسے ماضی میں دو مرتبہ “آرڈر آف لینن” سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں