ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے جوہری تنازع کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ زیلنسکی کے بیانات، جن میں یوکرین کے لیے نیٹو رکنیت اور جوہری ہتھیاروں کو سیکیورٹی گارنٹی کے طور پر پیش کیا گیا، درحقیقت جوہری کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات کے ذریعے زیلنسکی نہ صرف تنازع کو طول دینا چاہتے ہیں بلکہ خطرناک حد تک اس میں شدت بھی لانا چاہتے ہیں۔
روسی ترجمان کے مطابق مغربی یورپ ایسے حالات میں سب سے پہلے متاثر ہو سکتا ہے، اگر اس صورتحال کو قابو نہ کیا گیا۔
ماریہ زخارووا نے یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیلنسکی کو روکنے کے لیے اقدامات کریں، کیونکہ ان کے بقول یوکرینی قیادت روزانہ کی بنیاد پر ملنے والی مالی معاونت کے باوجود کشیدگی کو کم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین میں مارشل لا میں دوبارہ توسیع کر دی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگی صورتحال کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔
روسی مؤقف کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یوکرینی قیادت امن کے بجائے تنازع کو جاری رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔









