روس اور جمہوریہ کانگو کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کریملن میں جمہوریہ کانگو کے صدر ڈینس ساسو نگیسو سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر صدر پوتن نے کہا کہ روس اور کانگو کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور 1981 سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور دوستانہ روابط قائم ہیں۔ انہوں نے کانگو کے صدر کو حالیہ انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔

روسی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن میں توانائی، زراعت، لاجسٹکس اور جیولوجیکل ریسرچ کے شعبے شامل ہیں، جبکہ روسی کمپنیاں کانگو میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

انہوں نے تعلیمی تعاون پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران روس نے کانگو کے آٹھ ہزار سے زائد ماہرین کو تربیت فراہم کی، جبکہ اس وقت بھی سینکڑوں طلبہ روس میں زیر تعلیم ہیں۔

صدر پوتن نے بتایا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی فورمز پر بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور رواں سال ہونے والے روس-افریقہ سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

اس موقع پر کانگو کے صدر ڈینس ساسو نگیسو نے روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ روس دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اہم موقع فراہم کرے گا، جبکہ آئندہ برسوں کے لیے مشترکہ منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھا کر باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں