ماسکو(وائس آف رشیا) روسی سلامتی کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورو-اٹلانٹک اتحادی تنظیم برائے ممانعتِ کیمیائی ہتھیار (او پی سی ڈبلیو) کو اپنے جیوپولیٹیکل مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
روسی سلامتی کونسل کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی اس عالمی ادارے کو اپنی نام نہاد “رولز بیسڈ انٹرنیشنل آرڈر” کو برقرار رکھنے کے لیے بطور آلہ استعمال کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ روس نے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کا عمل 1996 کے حکومتی پروگرام کے تحت مکمل کیا، جس کے دوران مجموعی طور پر 39 ہزار 967 ٹن زہریلے مواد کو تلف کیا گیا، جو کہ اعلان کردہ ذخائر کا 100 فیصد تھا۔
روسی حکام کے مطابق 2002 سے 2017 کے درمیان تمام کیمیائی ہتھیار مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جن میں لاکھوں کیمیائی گولہ بارود، ٹینک اور مختلف خطرناک کیمیائی ایجنٹس جیسے سارین، سومن، وی ایکس، مسٹرڈ گیس اور لیوسائٹ شامل تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے، جس کے پاس تقریباً 30 ہزار ٹن کیمیائی ہتھیار موجود تھے، ان کی مکمل تباہی کا اعلان 2023 میں کیا، تاہم روسی مؤقف کے مطابق امریکہ کے پاس مالی اور تکنیکی صلاحیت ہونے کے باوجود اس عمل میں تاخیر کی گئی۔
روسی سلامتی کونسل کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کا عمل او پی سی ڈبلیو کے انسپکٹرز کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، تاہم مغربی ممالک اس ادارے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔









