ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک نے روس کے خلاف “کھلی جنگ” کا اعلان کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے یوکرین کو بطور “آگے بڑھنے والا ہتھیار” استعمال کیا جا رہا ہے۔
روسی این جی اوز کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ کیف حکومت مغربی ممالک کی عسکری اور انٹیلی جنس معاونت کے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتی، کیونکہ اسے ہتھیار، سیٹلائٹ معلومات اور فوجی تربیت سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کو ایک جیوپولیٹیکل “بیٹرنگ ریم” کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض مغربی عسکری حکام کھل کر روس کے خلاف جنگ کی تیاری کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔
لاوروف کے مطابق مغربی ممالک، خصوصاً برسلز، روس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں جنگ کی تیاریوں کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے بیلجیئم کے عسکری حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اسی نوعیت کی سوچ دیگر یورپی رہنماؤں کے بیانات میں بھی نظر آتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بعض مغربی رہنما مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے دیگر ممالک کو استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔









