ماسکو(وائس آف رشیا) روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے یورپی کونسل کی جانب سے یوکرین کو نئے قرضے کی منظوری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام یورپی ممالک کی خودمختاری کے بتدریج خاتمے اور خطے کی معاشی کمزوری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرگئی شوئیگو نے کہا کہ 22 اپریل کو یورپی کونسل کی جانب سے کیف حکومت کے لیے 90 ارب یورو کے اضافی قرضے کی منظوری دراصل یوکرین جنگ کو جاری رکھنے کی کوشش ہے، جو بالآخر یورپی دارالحکومتوں کی خودمختاری کو متاثر کرے گی۔
انہوں نے یوروسٹیٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی کا سرکاری قرضہ تین کھرب یورو سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ فرانس کا قرضہ ساڑھے تین کھرب یورو سے زیادہ ہو چکا ہے، جو یورپی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
شوئیگو کے مطابق یوکرین کی حمایت کے لیے کیے جانے والے اضافی اخراجات کا بوجھ عام یورپی شہریوں پر پڑے گا، جو پہلے ہی پنشن اور سماجی بہبود کے پروگرامز میں کٹوتیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کا مجموعی قرضہ اب 15 کھرب یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ یورپ کے عام شہری بالآخر اپنے رہنماؤں کی پالیسیوں کی قیمت ادا کریں گے، جو ان کے بقول غیر ذمہ دارانہ فیصلوں اور دوسروں کے وسائل پر انحصار کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپی حکام اپنے عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ دیگر ترجیحات کو اہمیت دے رہے ہیں، جو خطے کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔









