یورپی دباؤ کے باوجود سربیا اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا، یوریشیا کے عوام کا اتحاد ناگزیر ہے: دیمتری پیسکوف

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے سربیا پر دباؤ کے باوجود بیلغراد اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا، جبکہ یوریشیا کے عوام کے درمیان اتحاد اور تعاون ایک مستحکم مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

ماسکو میں منعقدہ “یوریشیا – ٹیریٹری آف ٹریڈیشنل ویلیوز” فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ یورپی یونین سربیا کو روس کے ساتھ تعلقات ختم کرنے اور یورپی یونین میں شمولیت کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جو ایک غیر مناسب اور غیر متوازن طرزِ عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر خودمختار ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے مطابق مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو ایسے دوٹوک اور مخالف شرائط پر مجبور کرنا درست نہیں۔

پیسکوف نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سربیا موجودہ پیچیدہ صورتحال میں بھی اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختار پالیسی برقرار رکھے گا۔

یوریشیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے کہا کہ یہ خطہ صدیوں سے مختلف اقوام اور تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے، جہاں سینکڑوں قومیں اپنی الگ شناخت، تاریخ اور روایات کے ساتھ رہتی آئی ہیں، تاہم ان کی جڑیں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روایتی اقدار کو برقرار رکھنے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں، کیونکہ تنہائی کی صورت میں یہ اقدار اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔

دمتری پیسکوف کے مطابق روایتی اقدار ماضی سے جڑی ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان کا تسلسل اور ارتقاء وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یوریشیا میں تعاون اور اتحاد ہی خطے کے روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے، کیونکہ مشترکہ کوششوں سے ہی بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ تقسیم کمزوری کا باعث بنتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں