بیلاروس بڑے معاہدے کے لیے تیار، امریکا کو سنجیدہ تیاری کرنا ہوگی: لوکاشینکو

منسک(وائس آف رشیا) بیلاروس کے صدر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ ایک “بڑے معاہدے” کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس تیاری ضروری ہے۔

روسی نشریاتی ادارے آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیاسی قیدیوں اور پابندیوں جیسے معاملات ثانوی نوعیت کے ہیں، جبکہ اصل توجہ ایک جامع اور بڑے معاہدے پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جیسے ہی ابتدائی سطح پر تیاری مکمل ہو جائے گی، وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں۔

لوکاشینکو کا کہنا تھا کہ امریکا بیلاروس کے ذریعے روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی راہ بھی تلاش کر سکتا ہے، جو ایک فطری اور قابلِ عمل حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کے پاس ماسکو کے ساتھ معاہدے کا ایک موزوں موقع موجود ہے، خاص طور پر ولادیمیر پوتن کی قیادت میں۔

بیلاروسی صدر نے زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں وعدوں کی پاسداری نہایت اہم ہے اور یہ کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں برابری کی بنیاد پر پیش رفت چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت “تابعدار اور حاکم” جیسے تعلقات کو قبول نہیں کریں گے، بلکہ خودمختاری اور باہمی احترام کو ترجیح دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں