آستانہ(وائس آف رشیا) قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل (ВЕЭС) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت یوریشین اقتصادی یونین کے رکن ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں علاقائی اقتصادی تعاون، انضمام اور مشترکہ ترقی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز سے قبل یوریشین اقتصادی یونین کے رکن ممالک اور مبصر ریاستوں کے سربراہان کی مشترکہ تصویر بنائی گئی۔
اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل کے محدود سطح کے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف، کرغزستان کے صدر صادر جاپاروف، آرمینیا کے نائب وزیراعظم مہیر گریگوریان اور یوریشین اقتصادی کمیشن کے چیئرمین باقیت جان ساگنتایف شریک ہوئے۔
روسی وفد میں نائب وزیراعظم اور یوریشین اقتصادی کمیشن کونسل کے رکن الیکسی اوورچک اور روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف بھی شامل تھے۔
بعد ازاں اجلاس کے توسیعی سیشن میں یوریشین اقتصادی یونین کی مبصر ریاستوں کے وفود نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، کیوبا کے نائب صدر سالوادور والدیس میسا، ایران کے وزیر صنعت و تجارت محمد اتابک اور دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے سیکریٹری جنرل سرگئی لیبیدیف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران یوریشین خطے میں اقتصادی تعاون، تجارت، صنعتی شراکت داری، ٹرانسپورٹ، توانائی، ڈیجیٹل معیشت اور علاقائی انضمام کے مختلف منصوبوں پر غور کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آستانہ میں ہونے والا یہ اجلاس یوریشین اقتصادی یونین کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور خطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔









