روس کا یوکرین اور میکسیکو پر سخت مؤقف، جنگ بندی خلاف ورزی اور روسی بچی کی حراست پر تشویش

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے یوکرین میں ایسٹر جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور میکسیکو میں ایک روسی بچی کی حراست کے معاملے پر سخت ردعمل دیا ہے۔

ماریہ زخارووا نے الزام عائد کیا کہ یوکرین نے ایسٹر جنگ بندی کے دوران امن کی سنجیدہ کوشش نہیں دکھائی۔ ان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے 11 سے 12 اپریل تک اعلان کردہ جنگ بندی کے دوران یوکرینی افواج نے 6 ہزار سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا کہ ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کے لیے کوئی واضح حکم جاری نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیف کی جانب سے امن کے لیے سنجیدہ نیت موجود نہیں تھی۔

دوسری جانب ماریہ زخارووا نے بتایا کہ روسی وزارت خارجہ نے ماسکو میں تعینات میکسیکو کے سفیر ایڈورڈو ویلگاس میخیاس کو طلب کیا ہے، جہاں ایک روسی بچی کی مبینہ غیر قانونی حراست پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ان کے مطابق روسی کمسن شہری کرسٹینا رومانوا میکسیکو کی چائلڈ ویلفیئر اتھارٹیز کی تحویل میں ایک بند ادارے میں رکھی گئی ہیں، اور ماسکو نے فوری قونصلر رسائی اور بچی کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

زخارووا نے کہا کہ روس اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں ریاستی ڈوما کی نائب چیئرپرسن آنا کزنیتسووا اور صدارتی کمشنر برائے بچوں کے حقوق ماریہ لوووا بیلووا کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2023 سے میکسیکو میں روسی سفارتخانہ اس معاملے پر کام کر رہا ہے اور متاثرہ بچی نے متعدد مواقع پر روس واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دونوں معاملات عالمی سطح پر اہمیت کے حامل ہیں اور ماسکو اپنے شہریوں کے تحفظ اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں