پاکستان نے ایران، امریکہ جنگ ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، سفیر فیصل نیاز ترمذی

ماسکو (شاہد گھمن سے)‌روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے نہ صرف ایک بڑے علاقائی تصادم کا خطرہ کم ہوا بلکہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں تارکین وطن بھی محفوظ رہے۔

روسی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سفیر ترمذی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی صورتحال اور عالمی تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی قیادت، جن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار شامل ہیں، نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے بحال رکھنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان اب بھی جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔

سفیر نے خبردار کیا کہ کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے اور ایسے کسی تصادم کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے تھے، اس لیے پاکستان نے بھرپور سفارتی کوششیں کیں تاکہ صورتحال مزید نہ بگڑے۔

انہوں نے خلیجی ممالک میں مقیم تارکین وطن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 60 لاکھ پاکستانی، ایک کروڑ بھارتی، 50 لاکھ بنگلہ دیشی اور 30 لاکھ نیپالی وہاں روزگار کے لیے موجود ہیں، اور کسی بھی جنگ سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے خاندانوں کے لیے روزی کمانے وہاں گئے ہیں، کسی بھی تصادم سے ان کی زندگیاں براہِ راست متاثر ہوتیں.

سفیر ترمذی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن اور خودمختار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان روس، چین اور مغربی ممالک سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات چاہتا ہے، اور کسی بلاک سیاست کا حصہ بننے کے بجائے باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ تجارت، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، خصوصاً توانائی کے بحران کے تناظر میں یہ تعلقات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

علاقائی تناظر میں انہوں نے افغانستان کی صورتحال کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم افغانستان پورے خطے کے امن کے لیے ضروری ہے اور عالمی برادری کو اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

سفیر نے عالمی اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے سے تقریباً 22 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور کسی بھی جنگ سے عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا، جو اس کی متوازن سفارتکاری کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

سفیر ترمذی نے فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔

انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ چاہے حالات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں، مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری میں ہی ہے، اور پاکستان مستقبل میں بھی امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں