کریمِلن ترجمان کا سی پی سی حملے اور عالمی توانائی بحران پر ردعمل

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے روزانہ بریفنگ میں کہا ہے کہ روس کو توانائی کی فراہمی کے لیے متبادل صارفین کی جانب سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ موجودہ صورتحال اس کے قومی مفادات کے مطابق آگے بڑھے۔ ان کے مطابق توانائی کی عالمی منڈی میں تبدیلیوں کے باعث دنیا ایک اقتصادی اور توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے جو روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی حکام اس وقت سربیا اور ہنگری سمیت کئی ممالک کے ساتھ توانائی سپلائی کے حوالے سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس ان ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں تعاون کو برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی توانائی اور تیل کی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث صنعتی اور بنیادی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر اقتصادی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سی پی سی (کاسپین پائپ لائن کنسورشیم) کی تنصیبات پر حملے کے حوالے سے سوال پر کریملن ترجمان نے کہا کہ اس معاملے کی تفصیلات کے لیے متعلقہ کمپنی سے رابطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یوکرین کی جانب سے اس اہم بین الاقوامی پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہو، جس سے اس کے نظام کو پہلے بھی نقصان پہنچ چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں