روس، امریکہ اور بھارت کے درمیان مداری خلائی اسٹیشنز پر تعاون کا امکان

ماسکو(وائس آف رشیا) روس کی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے سربراہ دمتری بکانوف نے کہا ہے کہ روس، امریکہ اور بھارت مستقبل میں اپنے اپنے قومی مداری خلائی اسٹیشنز کی ترقی کے حوالے سے باہمی تعاون کر سکتے ہیں، جس سے خلائی تحقیق میں نئی پیش رفت کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مختلف ممالک کے مجوزہ خلائی اسٹیشنز ایک ہی مدار کے زاویے یعنی 51.6 ڈگری پر قائم کیے جا سکتے ہیں، جو ان کے درمیان تکنیکی رابطے اور مشترکہ سرگرمیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس مشترکہ مدار کی بدولت مستقبل میں مختلف خلائی اسٹیشنز کے درمیان مشنز کا تبادلہ، ایک دوسرے کے قریب آنا، ڈاکنگ اور دوبارہ علیحدہ ہونے جیسے عمل ممکن ہو سکتے ہیں، جس سے بین الاقوامی تعاون کو نئی سمت ملے گی۔

دمتری بکانوف نے کہا کہ بھارت اپنے گگن یان پروگرام کے تحت اسی مدار میں خلائی اسٹیشن پر کام کر رہا ہے جبکہ امریکہ بھی اسی زاویے پر غور کر رہا ہے، جس سے آئندہ برسوں میں تینوں ممالک کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے مختلف ممالک کے اسٹیشنز ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر سائنسی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے قابل ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ روس نے دسمبر 2025 میں اپنے مجوزہ روسی مداری خلائی اسٹیشن کے لیے 51.6 ڈگری کے مدار کی منظوری دی تھی، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مدار سے ہم آہنگ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں