روس، سی آئی ایس اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون نئی سطح پر پہنچ گیا

ماسکو (وائس آف رشیا) روس نے سی آئی ایس ممالک، یوریشین اکنامک یونین اور چین کے ساتھ باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کا عمل تقریباً مکمل کر لیا ہے، جسے خطے میں معاشی تعاون کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

روسی نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران اس نظام کو تیزی سے فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں اب زیادہ تر ادائیگیاں ڈالر یا یورو کے بجائے متعلقہ ممالک کی اپنی کرنسیوں میں کی جا رہی ہیں۔

ان کے مطابق سی آئی ایس ممالک کے ساتھ 91 فیصد، یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ 93 فیصد جبکہ چین کے ساتھ 95 فیصد لین دین قومی کرنسیوں میں ہو رہا ہے، جو اس پالیسی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی بینکنگ نظام اور کرنسیوں پر انحصار کم کرنا روس اور اس کے شراکت داروں کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اسی مقصد کے تحت ایک ایسا مالیاتی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جو بیرونی دباؤ سے آزاد ہو۔

الیکسی اوورچک کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خطے میں تجارت کو مستحکم بنائے گا بلکہ یوریشیائی ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں