روس اور سربیا کے درمیان گیس معاہدے میں توسیع، توانائی بحران کے دوران اہم پیش رفت

ماسکو (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن اور سربیا کے صدر الیکساندر ووچچ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد دونوں ممالک نے گیس کی فراہمی کے معاہدے میں توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔

سربیا کے صدر کے مطابق روس نے موجودہ گیس معاہدے کو مزید تین ماہ کے لیے بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو 31 مارچ کو ختم ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس توسیع کے تحت سربیا کو انتہائی سازگار قیمتوں پر گیس کی فراہمی جاری رہے گی، جو یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں تعاون، مرکزی موضوع رہا۔ سربیا کے صدر نے روس کی جانب سے “مستحکم گیس سپلائی” جاری رکھنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، یوکرین تنازع، ایران سے متعلق کشیدگی، اور کوسوو و بوسنیا کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

سربیا، جو روایتی طور پر روس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، یورپی یونین کے دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ توانائی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں