ماسکو (وائس آف رشیا) روسی فیڈریشن کونسل کی خارجہ امور کمیٹی کی نائب چیئرپرسن ناتالیہ نیکونوروا نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں رہنے یا نہ رہنے پر غور کر سکتے ہیں۔
نیکونوروا کے مطابق ایران اب تک اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس معاہدے کی بنیادی منطق یعنی “سلامتی کے بدلے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری” کمزور ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات ایران کو اس معاہدے سے نکلنے کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کے بعد تہران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی کے بغیر اپنا جوہری پروگرام آگے بڑھا سکتا ہے۔
روسی سینیٹر نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری ایران پر نہیں بلکہ ان ممالک پر عائد ہوگی جنہوں نے عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو نقصان پہنچایا۔
تاہم انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ ایسے اہم فیصلے جذبات کی بنیاد پر نہ کرے بلکہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے بھی کہا تھا کہ حالیہ حملوں کے بعد ایران کے لیے NPT میں رہنا بے معنی ہو گیا ہے۔









