لندن (وائس آف رشیا) برطانیہ میں تعینات روس کے سفیر آندرے کیلن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرتے وقت امریکا نے دو بڑی غلطیاں کیں، جن میں تہران کی مزاحمتی صلاحیت اور ممکنہ معاشی نتائج کو کم تر سمجھنا شامل ہے۔
ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں آندرے کیلن نے کہا کہ امریکا کو توقع تھی کہ ابتدائی حملوں کے بعد ایران ہتھیار ڈال دے گا اور وہاں کی حکومت تبدیل ہو جائے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ اس کارروائی کے معاشی اثرات کو نظر انداز کیا گیا، جو اب واضح ہو چکے ہیں۔
روسی سفیر نے کہا کہ ان غلط اندازوں کے باعث امریکا نے اپنے اتحادیوں، خصوصاً خلیجی ممالک کو بھی گمراہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت امریکا کو ایران کے مقابلے میں زیادہ امن معاہدے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے لیے لڑ رہا ہے۔ ان کے بقول امریکا کی جانب سے اس فوجی کارروائی کے واضح اہداف یا اخراج کی حکمت عملی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کے مقاصد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آندرے کیلن نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور برطانیہ کی عوام بھی اس جنگی کارروائی کی حمایت نہیں کر رہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران تہران سمیت کئی بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں اور خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔









