روسی معیشت میں سست روی، پائیدار ترقی کی راہ پر واپسی ضروری: صدر ولادیمیر پوتن

ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ سال 2026 کے آغاز میں روسی معیشت میں سست روی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ معیشت کو دوبارہ پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔

اقتصادی امور پر کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اہم میکرو اکنامک اشاریوں میں معمولی منفی رجحان سامنے آیا ہے، جو غیر متوقع نہیں تاہم سرکاری اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری میں روس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کم رہی، جس کی ایک بڑی وجہ “کیلنڈر فیکٹر” ہے، یعنی اس سال جنوری میں کام کے دن کم تھے۔

صدر پوتن نے زور دیا کہ حکومت کو عالمی منڈیوں میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں اتار چڑھاؤ جیسے بیرونی خطرات کا بروقت اور مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ روس کو دوبارہ پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر آنا ہوگا، اور یہ عمل مہنگائی میں کمی اور لیبر مارکیٹ میں استحکام کے ساتھ ساتھ ہونا چاہیے، اگرچہ یہ ایک مشکل ہدف ہے۔

صدر کے مطابق سال کے آغاز میں بے روزگاری کی شرح 2.2 فیصد کی کم سطح پر برقرار رہی جبکہ مہنگائی بھی 6 فیصد سے کم رہی، جسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔

تیل و گیس کے شعبے کے حوالے سے ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ان کمپنیوں کو اپنی بڑھتی آمدن کو مقامی بینکوں کے قرضے ادا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، جبکہ حکومت کو قلیل مدتی آمدن کے حوالے سے متوازن فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ طویل مدتی بجٹ استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں