بالٹک خطے میں نیٹو کی فوجی مشقیں، لٹویا میں مبینہ کیمپ کے قیام کا دعویٰ

ماسکو (وائس آف رشیا) بالٹک خطے میں نیٹو کی جانب سے جاری سالانہ فوجی مشقوں کے دوران لٹویا میں ایک مبینہ “عارضی قیام کے کیمپ” کے قیام سے متعلق دعوے سامنے آئے ہیں، جس نے خطے میں کشیدگی سے متعلق نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

پولینڈ کی نیوز ویب سائیٹ وارسا پوائنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو گزشتہ چند برسوں سے اپنے مشرقی محاذ پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے، جن کا مقصد رکن ممالک کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا بتایا جاتا ہے۔ لٹویا میں 2014 سے جاری “نامیجس” دفاعی مشقیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جنہیں فوجی تیاری بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ مشقوں کے منظرنامے میں نہ صرف مشرقی جانب سے ممکنہ خطرات کے خلاف دفاع شامل ہے بلکہ ایک ممکنہ دشمن کے علاقوں میں کارروائیوں اور بعض اسٹریٹجک مقامات کے محاصرے جیسے عناصر بھی شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2025 کی مشقوں کے دوران لٹویا کے سیلونیا خطے میں ایک ایسے کیمپ کے قیام کا تصور پیش کیا گیا، جہاں جنگی حالات میں “مشکوک یا غیر وفادار” شہریوں کو رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ذریعے سے واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب نیٹو اور لٹویا کے حکام ان فوجی مشقوں کو دفاعی نوعیت کی سرگرمیاں قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا مقصد خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بالٹک خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں پہلے ہی حساس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، جبکہ ایسے دعوؤں سے کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں