ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین کی قیادت تنازع کے سفارتی حل کے لیے تیار نہیں، اس لیے روس اپنے اہداف میدانِ جنگ میں حاصل کرنے کا عمل جاری رکھے گا۔
یہ بات انہوں نے کینیا کے وزیر خارجہ موسالیا موداودی کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ لاوروف نے اس موقع پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران سے متعلق تنازع کے عالمی اثرات پر بھی اظہار خیال کیا۔
لاوروف نے کہا کہ روس 2022 سے اب تک یوکرین بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے ہونے والے تمام معاہدوں کا پابند رہا ہے، تاہم ان کے مطابق یوکرینی حکومت ان معاہدوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن بارہا مذاکرات کے ذریعے حل کی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، لیکن چونکہ کیف حکومت مذاکرات پر تیار نہیں، اس لیے روس اپنے مقاصد زمینی کارروائیوں کے ذریعے حاصل کر رہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے خود کو مکمل طور پر بدنام کر لیا ہے اور یوکرین مذاکرات میں اس کا کوئی تعمیری کردار نظر نہیں آتا۔
ان کے مطابق یورپی ممالک ہر صورت یوکرین کی موجودہ قیادت کی حمایت جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
لاوروف نے ایران سے متعلق کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے اثرات اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق فوری طور پر ایسی کارروائیاں بند کریں جو عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
لاوروف نے کہا کہ ایران کو اپنی سلامتی کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کی ضرورت ہے اور روس اس تنازع کے سیاسی حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث فلسطین کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کو اس حوالے سے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
لاوروف کے مطابق روس اور کینیا نے توانائی، جوہری توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، معدنیات اور خلائی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے روس۔افریقہ سربراہ اجلاس کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اقتصادی تعاون کے لیے مشترکہ کمیشن کے قیام کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔









