بحیرۂ روم میں تجارتی جہاز ’آرکٹک میٹاگاز‘ پر حملہ دہشت گردی اور جنگی جرم ہے: روس

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ بحیرۂ روم میں تجارتی جہاز آرکٹک میٹاگاز پر حملہ دہشت گردی کی کارروائی اور جنگی جرم کے مترادف ہے۔

ماسکو میں جاری بیان میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ بحیرۂ روم میں ایک شہری تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا موجودہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ان کے مطابق یہ ایک شہری ہدف پر دانستہ حملہ تھا جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور ماحولیاتی نقصان جیسے سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائی کو دہشت گردی اور جنگی جرم ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ حملہ یورپی یونین کے ایک رکن ملک کے ساحل کے قریب کیا گیا، تاہم اب تک کسی بھی یورپی ملک نے اس واقعے کی مذمت نہیں کی۔

ماریہ زخارووا کے مطابق اس واقعے پر یورپی ممالک کی خاموشی قابلِ توجہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں