ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزارتِ خارجہ کے سفیر برائے خصوصی امور روڈیون میروشِنک نے کہا ہے کہ روس کے شہر بریانسک پر حالیہ یوکرینی حملے کا مقصد یوکرین تنازع کے حل کے لیے جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی بطور سیاست دان دراصل جنگی حالات کے تناظر میں کام کر رہے ہیں اور خود کو امن کا حامی ظاہر کرنا بنیادی طور پر بیرونی حلقوں، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثر کرنے کے لیے ہے۔
ان کے مطابق زمینی سطح پر یوکرین کی تمام کارروائیاں، حتیٰ کہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی، دراصل مذاکراتی عمل کو کمزور کرنے اور جنگ کو طول دینے کے لیے ہیں۔
روڈیون میروشِنک نے دعویٰ کیا کہ زیلنسکی حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ ختم ہو گئی تو اس کے سیاسی مستقبل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اسے مختلف جرائم، جن میں بریانسک پر حالیہ حملہ بھی شامل ہے، کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان جرائم کی براہِ راست ذمہ داری زیلنسکی پر عائد ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زیلنسکی جنگ کو زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتے ہیں اور ممکنہ طور پر اس امید پر مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روس مذاکرات سے دستبردار ہو جائے، تاہم روس ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
یاد رہے کہ یوکرینی فوج نے 10 مارچ کو روس کے شہر بریانسک پر میزائل حملہ کیا تھا۔ علاقائی حکام کے مطابق اس حملے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 42 زخمی ہوئے۔









