ماسکو(شاہد گھمن سے) روس میں فلسطین کے سفیر عبدالحفیظ نوفل نے کہا ہے کہ ایران اور غزہ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی جانی چاہیے۔
روسی نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کی توجہ زیادہ تر ایران پر مرکوز ہے، تاہم غزہ پر اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور انسانی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی طاقت کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور انہیں اس سلسلے میں امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
فلسطینی سفیر نے زور دیا کہ ایران اور غزہ دونوں میں جاری جنگ کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا سکتی ہے تاکہ بحران کے خاتمے کے لیے مشترکہ سفارتی راستہ تلاش کیا جا سکے۔
عبدالحفیظ نوفل نے کہا کہ روس، چین اور دیگر ممالک کو عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں روکی جا سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں جاری تنازع فلسطین کے مسئلے کو بھی متاثر کر رہا ہے اور اس سے خطے کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
غزہ کی انسانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں حالات انتہائی سنگین ہیں کیونکہ اسرائیل انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اسرائیل نے رفح کراسنگ بند کر دی تھی اور اب تک اسے دوبارہ نہیں کھولا گیا، جس کی وجہ سے غزہ تک امدادی سامان پہنچانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
فلسطینی سفیر نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اقدامات کرے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔









