واشنگٹن(وائس آف رشیا) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اصل فائدہ امریکا کے بجائے روس اور چین کو ہو سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے روس کو معاشی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین کے لیے امریکی امداد میں ممکنہ کمی بھی روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے چین سے متعلق امریکی توجہ کو بھی کم کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی ایسے وقت میں شروع کی جب امریکا کو فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔ اخبار کے مطابق امریکا کا قومی قرضہ اس وقت تقریباً 39 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اور اس صورتحال میں طویل فوجی کارروائیاں امریکا کے لیے روس اور چین جیسے بڑے حریفوں کا مقابلہ کرنا مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی روس کو فائدہ ہونا شروع ہو گیا تھا کیونکہ 8 مارچ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اس صورتحال کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کا اعلان بھی کرنا پڑا۔
اخبار کا مزید کہنا ہے کہ امریکا کے اس تنازع میں الجھنے کے باعث اس کے اسلحے کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور انہیں دوبارہ بھرنے میں وقت لگے گا۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ پر امریکا کی بڑھتی توجہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور عسکری اثر و رسوخ سے توجہ ہٹا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران تہران سمیت کئی بڑے ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکا نے اس کارروائی کو ایران کے مبینہ میزائل اور جوہری خطرات کے خلاف پیشگی اقدام قرار دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس کے جواب میں اسرائیل کے اہداف پر حملوں کا اعلان کیا، جبکہ بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی رہنما بھی ہلاک ہوئے۔









