پوتن اور ٹرمپ کی گفتگو میں روسی تیل پر امریکی پابندیوں کے خاتمے پر تفصیلی بات نہیں ہوئی: کریملن

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران روسی تیل کی برآمدات پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کے معاملے پر تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی مفصل تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق عالمی معیشت پر اس طرح کی پابندیوں کے اثرات سے سب واقف ہیں اور دونوں رہنما اس صورتحال کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے تیل سے متعلق عائد کی گئی پابندیاں دراصل خلیج فارس میں موجودہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کی کوششوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن بعض ممالک کے تیل کے شعبے پر عائد کچھ پابندیاں نرم کرنے پر غور کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ انہیں دوبارہ نافذ نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب روسی صدر کے غیر ملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے خصوصی نمائندے کریل دمترییف کا کہنا ہے کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان روسی تیل پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں