یوکرین کا بحران مغربی ممالک کی کییف میں بغاوت کی حمایت کا نتیجہ ہے: ولادیمیر پوتن

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کا موجودہ بحران مغربی ممالک کی جانب سے کییف میں حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت کا نتیجہ ہے۔

روسی ٹی وی کے صحافی پاول زاروبن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یوکرینی بحران کی جڑیں اسی وقت پڑ گئیں جب مغربی ممالک نے کییف میں بغاوت کی حمایت کی۔ ان کے مطابق اس کے بعد کرائمیا میں پیش آنے والے واقعات اور پھر یوکرین کے جنوب مشرقی علاقوں ڈونباس اور نووروسیا کی صورتحال نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی طور پر مغربی ممالک کی ایک بڑی اور نظامی غلطی کا نتیجہ ہے۔

ولادیمیر پوتن کے مطابق کییف حکومت یورپی ممالک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے “دم کتے کو ہلا رہی ہو” یعنی کمزور فریق طاقتور فریق کو کنٹرول کر رہا ہو۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ مغربی ممالک آج یوکرین میں وہی نتائج بھگت رہے ہیں جو انہوں نے خود پیدا کیے تھے۔ ان کے بقول یہ روس کے اقدامات کا نتیجہ نہیں بلکہ مغربی ممالک کی پالیسیوں کا حاصل ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں کشیدگی انتہائی حد تک بڑھ چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں