یورپی ممالک یوکرین کی توانائی بلیک میلنگ سے آگاہ مگر خاموش ہیں: دیمتری پیسکوف

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک یوکرین کی جانب سے توانائی کے شعبے میں مبینہ بلیک میلنگ کو دیکھ تو رہے ہیں، مگر اس کے باوجود اس معاملے پر ایک دوسرے کو خاموش کرا دیتے ہیں۔

روسی ٹی وی کے نامہ نگار کو دیے گئے انٹرویو میں دمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ کییف حکومت کی توانائی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیسی یورپ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے بقول یورپی ممالک اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں، لیکن کسی وجہ سے اس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو اس کے اثرات بالآخر تمام یورپی ممالک تک پہنچیں گے اور یورپ کی معیشتوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی بالآخر یورپی یونین کے لیے ایک بوجھ بن جائیں گے، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی اور یورپ کو اپنی معاشی پالیسیوں کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ کییف حکومت اس سے قبل نورڈ اسٹریم ون گیس پائپ لائن کو تباہ کر چکی ہے، جو جرمنی اور یورپی یونین کی توانائی سلامتی کے خلاف اقدام تھا۔

پیسکوف کے مطابق اس کے بعد ترک اسٹریم اور بلو اسٹریم گیس پائپ لائنوں کے قریب بھی سرگرمیوں کی کوششیں کی گئیں، جبکہ ہنگری کو دروژبا آئل پائپ لائن کے حوالے سے دھمکانے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات توانائی کے شعبے میں دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے اثرات بالآخر یورپی ممالک کو ہی برداشت کرنا پڑیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں