ماسکو(وائس آف رشیا) روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ عالمی سکیورٹی نظام کا موجودہ ڈھانچہ تیزی سے بکھر رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی شکل و صورت مزید دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرگئی شوئیگو نے کہا کہ حالیہ عرصے میں تقریباً ہر روز عالمی سلامتی کے ڈھانچے میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور یہ نظام بتدریج اپنی واضح ساخت کھوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال سلامتی کے تقریباً تمام شعبوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی ملک کے خلاف کارروائی کے لیے کسی نہ کسی بہانے کی ضرورت پڑتی تھی، جیسا کہ کبھی کسی سفید پاؤڈر والی شیشی کو جواز بنا کر حملے کیے گئے، تاہم اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کسی قسم کے ثبوت یا الفاظ کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔
سرگئی شوئیگو نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی جارحیت بین الاقوامی قانون کی بالکل غیر معمولی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔
ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تنازع کے اثرات نہایت سنگین اور طویل المدتی ہوں گے جو پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات توانائی اور خوراک کے شعبوں سمیت عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ مائع قدرتی گیس، تیل اور عالمی لاجسٹکس کے نظام پر بھی اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے مزید کہا کہ اگر آبنائے ہرمز ایک دن کے لیے بھی بند ہو جائے تو عالمی معیشت کو تقریباً سات ارب ڈالر تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایسے حالات میں شروع کی گئی جب اس کے ممکنہ نتائج اور اثرات کو پوری طرح سمجھا ہی نہیں گیا تھا۔









