صوفیہ میں شہنشاہ الیگزینڈر دوم کی یادگار پر بلغاریہ کی آزادی کی 148ویں سالگرہ کی تقریب

صوفیہ (وائس آف رشیا) بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں شہنشاہ الیگزینڈر دوم کی یادگار پر بلغاری عوام کی جانب سے 1877-1878 کی روس-ترک جنگ کے نتیجے میں ملک کی آزادی کی 148ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب میں بلغاریہ میں روس کی سفیر ایلینا متروفانووا، قائم مقام فوجی اتاشی لیفٹیننٹ کرنل وی۔ ایس۔ دولگخ، روسی سفارت خانے کے تحت قائم اسکول کے اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں ایلینا متروفانووا نے کہا کہ “بلغاریہ کا یومِ آزادی ہمارا بھی تہوار ہے، کیونکہ اس وقت روس کے بغیر بلغاری عوام کے لیے کامیابی حاصل کرنا مشکل تھا۔ 1877-1878 کی روس-ترک جنگ ایک منفرد مثال ہے جب اُس شہنشاہ، جن کی یادگار کے پاس ہم آج موجود ہیں، نے عوامی دباؤ پر جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت روسی معاشرے کے تمام طبقات نے عثمانی تسلط سے سلاوی برادران کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی۔ آج ہم عظیم ‘زارِ آزادی بخش’ الیگزینڈر دوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے روس کو درپیش مشکلات کے باوجود یہ تاریخی فیصلہ کیا، خود محاذِ جنگ پر موجود رہے اور جن کے رشتہ داروں نے بھی فوجی قیادت کرتے ہوئے مشترکہ فتح میں کردار ادا کیا۔”

تقریب کے اختتام پر سفارت خانے کے سفارت کاروں اور بلغاری عوام نے جنرل ایوان گورکو کی یادگار پر بھی پھول چڑھائے، جنہوں نے موجودہ بلغاری دارالحکومت کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ صوفیہ کے مرکز میں بلغاری رضاکار سپاہی کی یادگار پر بھی حاضری دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں