ماسکو (وائس آف رشیا) روسی صدر پوتن نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے گرد بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان آل سعود اور ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں خطے میں بڑھتی کشیدگی، جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
گفتگو کے دوران امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال اور ایران کے جوابی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحران نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور متعدد عرب ریاستوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے فوری جنگ بندی اور سیاسی و سفارتی عمل کی بحالی ناگزیر ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے بات چیت میں امارات میں موجود روسی شہریوں اور سیاحوں کی معاونت پر شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ اماراتی قیادت نے نشاندہی کی کہ حالیہ حملوں کے اثرات ان کے ملک تک بھی پہنچے ہیں۔ پوتن نے اس ضمن میں متعلقہ پیغامات تہران تک پہنچانے اور استحکام کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ گفتگو میں تنازع کے پھیلاؤ اور تیسرے ممالک کے اس میں شامل ہونے کے خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان سے بچایا جائے گا اور مذاکراتی عمل کی بحالی ممکن بنائی جائے گی۔
بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے بات چیت میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ پیش رفت پورے خطے کو ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر لے جا سکتی ہے۔ پوتن نے روس کی جانب سے خطے میں استحکام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود کے ساتھ گفتگو میں بحران کے توانائی کی عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ پوتن نے کہا کہ اس نہایت خطرناک صورتحال کا حل صرف سیاسی و سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے، جبکہ سعودی قیادت نے روس کے متوازن تعلقات کو مثبت کردار کے لیے اہم قرار دیا۔
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان سے گفتگو میں ایران کے گرد کشیدگی کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی منڈی اور یورپی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ یوکرین سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے اور سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
تمام رہنماؤں نے رابطے جاری رکھنے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔









