امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد ایران کی اسرائیل اور خلیجی ممالک میں فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش

تہران (وائس آف رشیا) امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ابتدائی حملہ کیا گیا، صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تہران سمیت کئی شہروں میں سمندر اور فضا سے 30 مقامات پر میزائل داغے، میناب میں سکول پر حملے سے طالبات سمیت 53 جاں بحق ہو گئے، ایران نے بھی فتح خیبر کے نام سے جوابی حملہ کر دیا جس سے اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ ایران بھی بھرپور جواب دے رہا ہے، برطانیہ نے وضاحت کی ہے کہ برطانیہ اس حملے میں شامل نہیں ہے، جرمنی نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی حملے سے آگاہ تھا جبکہ یوکرینی وزارت خارجہ نے ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر اور سیاسی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا عراق پر بھی حملہ

امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے عراق پر بھی حملہ کر دیا، بغداد میں حاشد شعبی پی ایم ایف ہیڈکوارٹرز پر اسرائیلی حملہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہوائی آپریشن معطل کر دیئے گئے ہیں۔

ایران کا بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ

ایران نے اسرائیل کے خلاف فتح خیبر کے نام سے آپریشن شروع کر دیا، اسرائیل پر 75 میزائل داغے گئے، بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، پورے اسرائیل میں سائرن بج گئے، اسرائیل کے شمالی علاقے حفیضہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکے ہوئے۔

عرب میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا ہے، ایران نے وسیع پیمانے پر ڈرون اور میزائل چلا دیئے، دارالحکومت تل ابیب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکے ہوئے ہیں، قطر کی فضائی حدود میں ایرانی میزائل تباہ کیے گئے، ابوظہبی میں بھی زور دھماکے ہوئے ہیں جبکہ بحرین میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں،  بحرین میں امریکی اڈے اور امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنایا گیا۔

قطریاتی نشریاتی ادارے کے مطابق کویت میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ابوظہبی اور دبئی میں مزید دھماکے ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جوابی وار میں 5 اہم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسائے گئے، نشانہ بننے والے اڈوں میں العدید ایئر بیس قطر، السالمیہ بیس کویت شامل ہیں۔

الظفرہ ایئر بیس یو اے ای بھی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنا، امریکی اڈہ بحرین اور کنگ حسین ایئر بیس اردن بھی شامل ہیں، ایرانی حملوں کے بعد کویت، بحرین اوریو اے ای میں سائرن بجتے رہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایشیائی شہری ہلاک بھی ہوا ہے۔

بحرینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی پانچویں بحری بیڑے کے سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، بحرین میں امریکی سفارتی عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا، خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں۔

دوحہ میں مزید دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ ابوظہبی کے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم نے امریکا کو خبردار کیا تھا، آپ نے ایسا عمل شروع کردیا جس کا خاتمہ اب آپ کےاختیارمیں نہیں، تمام امریکی اڈے ایران کی پہنچ میں ہیں۔

خطے میں ہر امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا: ایران 

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکراتی عمل کے دوران ہم پر حملہ کیا، امریکی و اسرائیلی حملوں میں مختلف شہروں میں فوجی و دفاعی اہداف کے ساتھ شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا، خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

امریکی و اسرائیلی حملہ

گورنر تسنیم کے مطابق ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر اسرائیلی بمباری سے حملے میں طالبات سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 53 ہوگئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا، اسرائیل نے ایران کے 30 مقامات کو نشانہ بنایا، امریکی و اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر کا ہدف ایرانی قیادت تھی، ابتدائی حملہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر پر کیا گیا، تہران کے کئی علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں، تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ میں متعدد میزائل گرے، فوجی مراکز اور مقامات پر حملوں کے بعد پاسداران انقلاب کے ہزاروں ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل نے جنوبی تہران میں متعدد وزارتوں کے دفاتر کو نشانہ بنایا، ایران پر سمندر اور فضا دونوں ذرائع سے حملے کیا گیا، نورستان اور تبریز میں بھی دھماکے ہوئے ہیں، قم میں دو بڑے حملے کیے گئے، قم میں شیعہ مسلک کا سب سے برا مدرسہ موجود ہے۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران حملے کی تیاری کر رہا ہے، حملہ تباہ کن ہوگا، ایرانی دفاعی نظام اسرائیلی و امریکی میزائلوں کو انٹرسیپت کر رہا ہے، ایرانی رہبرِ اعلیٰ اور ایرانی صدر خیریت سے ہیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے جو کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔

لبنانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ لبنانی امن و سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈالنے دیں گے، روسی حکام نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات صرف ڈھونگ تھے۔

ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا گیا، صدارتی دفتر پر بھی حملہ ہوا، تہران کے بعد اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اسرائیل نے ایرانی شہر بوشہر پر حملہ کیا اور جوہری پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا، ایران پر درجنوں ٹوما ہاک میزائل برسائے گئے،  تہران میں انٹیلی جنس کی وزارت کو نشانہ بنایا ہے، ایرانی خبر رساں ایجنسیوں پر بھی سائبر حملے کیے گئے ہیں، ایران کے خارگ جزیرے پر بھی امریکی و اسرائیلی حملہ ہوا، چاہ بہار بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر اور صدر محفوظ

حملہ سکول اوردفتری اوقات کےدوران کیا گیا، 7 میزائل صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب کے علاقے پر گرے۔

قبل ازیں بتایا گیا کہ تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع ملی ہے، تہران یونیورسٹی کی شاہراہ اور جمہوری علاقے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے، ایرانی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق ہسپتال الرٹ پر ہیں، تصدیق ہونے کے بعد زخمیوں کی تعداد کا اعلان کیا جائے گا۔

ایران میں فون اور انٹر نیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، سٹاک مارکیٹ بھی کریش کر گئی ہے، ٹریڈنگ معطل ہو گئی، شہری تہران چھوڑ کر جانے لگے، پٹرول پمپوں پر رش لگ گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای  تہران میں موجود نہیں ہیں، ان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، قطر میں امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا۔

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا بھی اس حملے میں شریک ہے، امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے، ایران پر حملے مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، اسرائیلی حکام کے مطابق آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنا لیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کا مقصد ایران کے سکیورٹی آلات کو ختم کرنا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے کی آوازیں

ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں، اسرائیلی فوجی حکام نے اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیئے، عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی اور عوامی اجتماعی پر بھی پابندی لگا دی، اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حفاظتی حملہ شروع کر دیا ہے، اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت کر دی۔

پاکستانی شہریوں کو سفر سے گریز کی ہدایت

دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ نے شہریوں کے لیے ایران کے سفر کے حوالے سے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے، پاکستانی شہریوں کو ایران کے ہر قسم کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے، ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو احتیاط برتنے اور چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، ایران میں مقیم پاکستانی شہری سفارتی مشنز سے رابطے میں رہیں، سفارتی مشنز کے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کر دیئے گئے۔

ایران کے خلاف آپریشن شروع کر دیا، کئی دن جاری رہ سکتا ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاپنے بیان میں کہا کہ ہمارا مقصد امریکی عوام کی سکیورٹی یقینی بنانا ہے، ایرانی رجیم کی جانب سے خطرے کو ختم کررہے ہیں، ہمارا مقصد ایرانی حکومت سے آنے والے خطرات کو ختم کرکے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، کچھ دیر قبل ایران پر بڑا فوجی حملہ کیا، ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے میں امریکی بھی جان سے جا سکتے ہیں، ایرانی پاسدران انقلاب ہتھیار ڈالیں،آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا، ہم ایران کی بحریہ اور میزائل پروگرام کو ختم کر دیں گے، ہم نے ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی امریکا اور ایران میں جنیوا میں مذاکرات ہوئے تھے جن میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، اس سے پہلے بھی امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اس وقت حملہ کیا تھا جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے، یہ امریکا اور اسرائیل کا ایک سال کے دوران ایران پر دوسرا حملہ ہے۔

پی آئی اے نے خلیجی ممالک کا فضائی آپریشن معطل کر دیا

مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کے باعث پی آئی اے نے اپنا خلیجی ممالک کا فضائی آپریشن معطل کر دیا۔

پی آئی اے کی متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور کویت کی پروازیں معطل کی گئی ہیں، پروازیں ابتدائی طور پر کل شام یا فضائی حدود کی بحالی تک اپریٹ نہیں کی جائیں گی۔

پی آئی اے کی سعودی عرب کی پروازیں جاری رہیں گی مگر ان کا روٹ تبدیل کر دیا گیا ہے، پروازیں بوئنگ 777 طیاروں پر منتقل کر دی گئی ہیں اور طویل راستے سے منزل مقصود پر پہنچیں گی۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد فلائٹ آپریشن کی مزید بحالی یا معطلی کا فیصلہ کیا جائے گا، فیصلہ خطے کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں