روسی وزارت خارجہ کی جانب سے پاک، روس تعلقات کی تاریخ اور حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا گیا

ماسکو(شاہد گھمن سے) روس کی وزارتِ خارجہ نے دنیا نیوز کو تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں، جو وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے متوقع دورۂ ماسکو اور پاک–روس تعلقات کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتی ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے گزشتہ روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کے حوالے سے نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن کے سوال کا جواب دیا اور آج بزیعہ ای-میل دنیا نیوز کو پاک،روس تعلقات کی تاریخ اور حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا ہے.

روسی وزارت خارجہ کے مطابق سوویت یونین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات یکم مئی 1948 کو قائم ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ اور بلند سطحی رابطے مسلسل جاری ہیں۔

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے فروری 2003 میں روس کا سرکاری دورہ کیا، جبکہ مئی 2011 میں صدر آصف علی زرداری روس تشریف لے آئے۔ اپریل 2007 میں روس کے وزیراعظم میخائل فرادکوف نے اسلام آباد کا دورہ کیا۔ فروری 2022 میں وزیرِاعظم عمران خان نے ماسکو کا دورہ کیا۔

تازہ ترین اعلیٰ سطحی ملاقاتیں 2024 اور 2025 میں ہوئیں، جن میں صدر ولادی میر پوتن اور وزیراعظم شہباز شریف کے مابین متعدد ملاقاتیں شامل ہیں، جن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور دیگر بین الاقوامی فورمز کے اجلاس شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک نے تجارتی، اقتصادی اور انسانی شعبوں میں تعاون کے لیے ٹھوس اقدامات طے کیے۔

دوطرفہ تعلقات میں پارلیمانی روابط بھی فعال ہیں۔ 2024 اور 2025 میں پاک–روس دونوں پارلیمانی ایوانوں کی سطح پر متعدد سرکاری دورے اور ملاقاتیں ہوئیں، جن میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی اعلیٰ سطحی وفود شامل ہیں۔

خارجہ امور کے وزرائے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے اور مشاورتی میکانزم بھی فعال ہیں۔ 2025 میں روس اور پاکستان نے عالمی سکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، خطے میں استحکام اور دیگر چیلنجز پر متعدد مذاکرات کیے۔

افغانستان کے حوالے سے بھی مسلسل ہم آہنگی قائم ہے۔ ماسکو فارمیٹ کے اجلاس اور علاقائی “چہارگانہ” اجلاس (روس، چین، ایران، پاکستان) باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

روسی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ پاک–روس فوجی تعاون بھی جاری ہے۔ 2016 سے ہر سال دونوں ممالک میں مشترکہ اینٹی ٹیرر اور بحری مشقیں “دوستی” اور “عربین مونسون” کے عنوان سے منعقد ہو رہی ہیں۔ 2025 میں آٹھواں راؤنڈ روس کے ولگوگراد میں ہوا جبکہ بحری مشقیں باقاعدگی سے مارچ 2025 میں منعقد کی گئیں۔

تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کے لیے دوطرفہ بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی و سائنسی و تکنیکی تعاون فعال ہے۔ اس کا 10واں اجلاس نومبر 2025 میں اسلام آباد میں ہوا۔ صنعتی اور توانائی کے شعبے دونوں ممالک کے لیے ترجیحی ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈورز، بشمول “شمال–جنوب” MTK سے جوڑنے کی منصوبہ بندی بھی زیر غور ہے اور اسلام آباد یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ شراکت داری میں دلچسپی رکھتا ہے۔

پاکستان اور روس تعلیمی اور سائنسی تعاون بھی ترقی کر رہا ہے۔ دوطرفہ کمیشن کے تحت ایک ورکنگ گروپ قائم ہے جو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان میں روسی تعلیم میں دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اسلام آباد، لاہور، کراچی اور سرگودھا میں روسی زبان کے کورسز چلائے جا رہے ہیں۔ جبکہ تعاون اور تجارتی شعبوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں