وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے تناظر میں سرگرمیاں تیز، ماریہ زخارووا کا ردعمل

ماسکو (شاہد گھمن سے) روس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے متوقع دورۂ ماسکو سے قبل سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی سرکاری ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا کہ 27 فروری کو ماسکو میں روسی–پاکستانی میڈیا فورم منعقد ہوگا، جو وزیراعظم پاکستان کے طے شدہ دورے کے پس منظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔

ماریہ زخارووا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ فورم بین الاقوامی ملٹی میڈیا پریس سینٹر “روسیا سیوودنیا” کے پلیٹ فارم پر ہوگا، جس میں روسی اور پاکستانی صحافی، سفارتکار، ماہرینِ سیاسیات اور تجزیہ کار شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ فورم کے دوران بین الاقوامی تعلقات کے نظام میں جاری بنیادی تبدیلیوں، عالمی صحافت کے جدید رجحانات اور دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان عملی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس کا بنیادی مقصد روس اور پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے کے بارے میں براہِ راست اور مستند معلومات کی فراہمی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ محض ایک مقامی تقریب نہیں ہوگی بلکہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان ٹیلی برج کے ذریعے براہِ راست نشریات بھی کی جائیں گی، جو روسی اور پاکستانی میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر ہوں گی۔

اسی تناظر میں نمائندہ دنیا نیوزشاہد گھمن نے سوال کیا کہ روسی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں کس طرح دیکھتی ہے، اور کیا اس موقع پر توانائی، صنعتی تعاون اور تجارتی روابط کے شعبوں میں کسی ٹھوس پیش رفت یا معاہدوں کی توقع کی جا سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں ماریہ اخارووا نے کہا کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور ممکنہ معاہدوں سے متعلق اعلانات روسی صدر کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جاتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے باضابطہ معلومات کے لیے صدارتی سطح کے اعلان کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق میڈیا فورم کا انعقاد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ماسکو میں پاک–روس تعلقات کے حوالے سے سرگرمیاں عملی مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں، اور آئندہ دنوں میں سفارتی اور اقتصادی سطح پر مزید پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں