پوتن اور لوکاشینکو کا سلامتی، تجارت اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یونین اسٹیٹ کی سپریم اسٹیٹ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اور بیلاروس مشترکہ طور پر پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایک کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال دونوں ممالک سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ہر چیلنج کا متحد ہو کر سامنا کریں۔
اجلاس میں بیلاروس کے صدر Alexander Lukashenko بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات روس اور بیلاروس کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا دباؤ کا مشترکہ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔
صدر پوتن کے مطابق روس اور بیلاروس کے عوام دونوں ممالک میں مساوی حقوق سے مستفید ہو رہے ہیں، جب کہ صدیوں پر محیط دوستی اور مشترکہ اقدار دونوں ریاستوں کے انضمام کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں میں انضمامی تعاون کے نتیجے میں تقریباً تمام شعبوں میں ایک مشترکہ اقتصادی و سماجی فضا قائم ہو چکی ہے۔
روسی صدر نے بتایا کہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 52 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔ ان کے بقول سرمایہ کاری اور تجارت میں سال بہ سال اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ علاقوں کے درمیان براہِ راست مضافاتی ریلوے رابطہ بحال کیا جائے گا، جبکہ سرحدی ریلوے روٹس — اسمالینسک سے ویتبسک اور اورشا تک — آئندہ چند ماہ میں شروع کیے جائیں گے، جس سے عوامی روابط اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

صدر لوکاشینکو نے روس اور بیلاروس کے انضمام کو “بے مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمنٹیرین باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے قانونی تعاون سے متعلق ہدایت نامے پر دستخط کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
صدر پوتن نے واضح کیا کہ روس اور بیلاروس یونین اسٹیٹ کی فوجی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق 2025 میں نافذ العمل ہونے والا بین الریاستی معاہدہ برائے سلامتی ضمانتیں دونوں ممالک کے اتحاد کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں ممالک آج ایک ایسے دستاویز پر دستخط کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے تحت اپنے شہریوں کو بیرونی ممالک میں مبینہ سیاسی یا قانونی دباؤ سے مشترکہ تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
صدر لوکاشینکو نے بتایا کہ سلامتی ضمانتوں کے معاہدے پر عملی عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جبکہ “اوری شنک” میزائل نظام دسمبر میں بیلاروس میں جنگی ڈیوٹی پر تعینات کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر چین اور روس کو اب بھی طاقتور سمجھا جاتا ہے تو ان کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں اور ان کی معیشتوں میں مداخلت کی جا رہی ہے۔
دیگر ممالک سے تعلقات
صدر لوکاشینکو کے مطابق چین اور ایران بیلاروس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور روس و بیلاروس کے علاقائی تعاون کے ماڈل سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس اور بیلاروس موجودہ عالمی چیلنجز کے باوجود اپنے اسٹریٹجک اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں گے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔









