ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے “پیس کونسل” (Board of Peace) فلسطین کی بحالی اور انسانی ضروریات کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز بریفنگ کے دوران کہی۔
پیسکوف کے مطابق ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز واضح طور پر کہا تھا کہ یہ فنڈز “انسانی مقاصد کے لیے فلسطین کی تعمیرِ نو” پر صرف کیے جائیں اور کسی دوسرے مصرف میں نہ جائیں۔
اس سے قبل ایک ہنگامی اجلاس میں صدر پوتن نے سیکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین کو بتایا تھا کہ روس ایک ارب ڈالر “پیس کونسل” کو دینے کے لیے تیار ہے، جس کے لیے رقم امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے منتقل ہوگی۔ یہ اثاثے سابق امریکی انتظامیہ کے دور میں منجمد کیے گئے تھے۔
“پیس کونسل” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر تشکیل دی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ پٹی اور فلسطینی علاقوں میں سیاسی اور تعمیراتی کے اقدامات کو مربوط کرنا ہے۔ کے کے سربراہ ہوں گے اور انہیں فیصلہ سازی میں ویٹو کا خصوصی اختیار بھی حاصل ہوگا۔
تنظیم کے ضابطے کے مطابق اس کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ دیگر تنازع زدہ علاقوں میں بھی سرگرم ہو سکتی ہے۔ چارٹر میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جمع ہونے والے فنڈز کو کیقے سے استعمال کیا جائے گا۔









