روس یوکرین، ایران اور اسرائیل-فلسطین مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستے پر پرعزم ہے، روسی وزیر خارجہ

ماسکو (شاہد گھمن سے) روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکومیں اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں 2025 میں روسی سفارتکاری کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سمیت متعدد عالمی تنازعات کے حل کے لیے روس سفارتی اور سیاسی راستوں کو ترجیح دیتا ہے، لیکن مغرب کی شراکت بعض اوقات امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث رہی ہے۔

لاوروف نے کہا کہ یوکرین بحران کو ختم کرنے کے سلسلے میں روس نے ہمیشہ نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، جس میں صدر ولادیمیر پوتن کی پالیسی بھی نمایاں ہے، لیکن مغربی ممالک، خاص طور پر یورپی طاقتیں، نے متعدد بار امن معاہدوں کو سبوتاژ کیا اور روس-یوکرین تصادم کے سیاسی حل میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں امور اس سمت میں منتقل ہو رہے ہیں کہ طاقت مندی کو درست قرار دیا جا رہا ہے، اور وہ اصول جو پہلے عالمی امن کے لیے بنیاد تصور ہوتے تھے، اب پس پشت ہو چکے ہیں۔

لاوروف نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کے بعض بیانات اور رویوں سے ایران کی اندرونی سیاست میں غیر ملکی مداخلت کے خدشات پیدا ہوئے ہیں، جنہیں عالمی قانون اور خطے کے استحکام کے نظریے کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

فلسطین اور غزہ کے مسئلے پر بھی لاوروف نے کہا کہ غزہ کی صورتِ حال کے حل کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے ’’بورڈ آف پیس‘‘ (Peace Council) جیسے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور ان معاملات میں فلسطینی ریاست کے قیام کو حل کی بنیاد کے طور پر ضروری سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم غزہ کے حل کی بات کرتے ہیں، تو ہم اسی موقف پر ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے، جسے عالمی برادری نے بھی متعدد بار تسلیم کیا ہے۔

لاوروف نے امن اور سفارتی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس تمام بحرانوں، بشمول یوکرین، ایران، اور مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی و سفارتی انسداد تشدد کے انصرام کے لیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کو صرف عسکری طریقے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں