سخت سردی کے باوجود روس بھر میں مسیحیوں نے پانی میں ڈبکیاں لگا کر ایپی فینی کی رسم ادا کی

ماسکو(وائس آف رشیا) روس بھر میں 19 جنوری کو اورتھوڈوکس مسیحیوں نے برادری نے اپنے روایتی مذہبی تہوار ایپی فینی (Epiphany) کے موقع پر سخت ترین سردی کے باوجود برفیلے پانی میں ڈبکیاں لگا کر عقیدت کا اظہار کیا۔ ملک کے مختلف شہروں اور خطوں میں چرچ کی عبادات کے بعد ہزاروں شہری خاص طور پر تیار کیے گئے جھیلوں، دریاؤں اور برفیلی تالابوں میں اترتے رہے، جہاں پانی کا درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب تھا۔

روسی روایات کے مطابق اس دن تین مرتبہ برفیلے پانی میں ڈبکی لگانا روحانی پاکیزگی، برکت اور گناہوں سے نجات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس مذہبی رسومات کی تیاریاں کئی روز پہلے شروع ہوتی ہیں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی اور ریسکیو ٹیمیں بھی موقع پر موجود رہتی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ روس کے صدر ولادیمر پوتن بھی ہر سال یہ روایت ادا کرتے ہیں اور ماضی میں متعدد بار انہیں ایپی فینی کے موقع پر برفیلے پانی میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے دکھایا جا چکا ہے، جس سے عوام میں اس مذہبی روایت کی اہمیت مزید بڑھتی ہے۔

اس سال بھی ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، قازان اور سائبیرین خطوں سمیت کئی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تک گرنے کے باوجود عوام کا جذبہ سرد نہ ہوا۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں خصوصی مقامات قائم کیے گئے جہاں شہری طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر باری باری پانی میں اترتے رہے۔

انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو اس عمل سے گریز کی سفارش کی گئی ہے۔ روس میں یہ تہوار مسیحی برادری کی سب سے اہم مذہبی روایات میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال وسیع پیمانے پر منایا جاتا ہے۔

روسی روایات کے مطابق، 19 جنوری کا آغاز ہوتے ہیں یہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے لوگ برفیلے پانی میں تین مرتبہ ڈبکی لگانا پاکیزگی، روحانی تطہیر اور برکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چرچ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ روایت روسی عیسائی ثقافت کا اہم حصہ ہے، جسے ہر سال بڑی تعداد میں لوگ نہ صرف مذہبی عقیدت بلکہ ثقافتی شناخت کے اظہار کے طور پر بھی مناتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں