ماسکو (وائس آف رشیا) روس نے نیو نازی نظریات کی حمایت کرنے والے کینیڈا کے 28 شہریوں کے ملک میں داخلے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے اس فیصلے کا اعلان ایک باضابطہ پریس ریلیز میں کیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے روسی شہریوں پر عائد کی گئی ’’غیر قانونی اور روس مخالف‘‘ سفری پابندیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جن 28 کینیڈین شہریوں پر پابندی لگائی گئی ہے، وہ پرو-بانڈیرا تنظیموں سے وابستہ ہیں اور ایسے اقدامات میں ملوث رہے ہیں جن کا مقصد اس مجرمانہ نیو نازی نظریے کو فروغ دینا ہے جسے اس وقت کیف حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد عظیم محاذِ جنگ (دوسری عالمی جنگ) سے متعلق تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کینیڈا اور یوکرین کے انتہاپسند قوم پرست حلقوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جنہیں روس انتہائی شدت پسند اور ناقابلِ مفاہمت عناصر قرار دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کی جانب سے سابق کینیڈین وزیرِ خزانہ اور نائب وزیرِ اعظم کرسٹیا فری لینڈ کو اقتصادی مشیر مقرر کرنا بھی اسی رجحان کی واضح مثال ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق کرسٹیا فری لینڈ، دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے معاون میخائل خوماک کی پوتی ہیں۔
واضح رہے کہ کرسٹیا فری لینڈ اس سے قبل یوکرین کے لیے کینیڈا کی خصوصی نمائندہ بھی رہ چکی ہیں، اور پیر کے روز انہیں باضابطہ طور پر یوکرینی صدر کا اقتصادی مشیر مقرر کیا گیا۔









