صدر پوتن اور لوکا شینکو کی ملاقات! اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط کرنے پر اتفاق

سینٹ پیٹرزبرگ (وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے درمیان سینٹ پیٹرزبرگ میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، یوریشین اقتصادی یونین (EAEU) کے امور اور علاقائی انضمام پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

صدر پوتن نے بیلاروس کے صدر کے حالیہ خطاب کو “گہرا، متوازن اور ہمہ جہت” قرار دیتے ہوئے روس–بیلاروس تعلقات کے بارے میں لوکاشینکو کے مثبت اور گرمجوش مؤقف کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح پر قریبی رابطہ ہے اور زیادہ تر معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر صدر پوتن نے بتایا کہ بیلاروس 2025 میں یوریشین اقتصادی یونین کی صدارت کر رہا ہے اور اسی تناظر میں اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل کا اجلاس 21 دسمبر کو منعقد ہوگا، جبکہ 22 دسمبر کو دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (CIS) کے سربراہان کا غیر رسمی اجلاس بھی ہوگا۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، فوجی، عسکری تکنیکی اور معاشی شعبوں میں تعاون مؤثر انداز میں جاری ہے اور عملی نوعیت کے مسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی معاملہ حل طلب ہو تو حکومتیں اسے اعلیٰ سطح پر لے آتی ہیں۔

صدر لوکاشینکو نے روسی صدر کی حالیہ “براہِ راست لائن” نشریات کو جرات مندانہ اور بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں کھلے دل سے عوامی سوالات کا سامنا کرنا ایک مضبوط قیادت کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اور بیلاروس پوسٹ سوویت خطے میں انضمامی عمل کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں، جسے کسی پر مسلط نہیں کیا جا رہا بلکہ شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ روس اور بیلاروس یوریشین اقتصادی یونین کے پلیٹ فارم پر باہمی تعاون کو مزید وسعت دیں گے اور مشترکہ علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں