ماسکو (وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس میں بسنے والی تمام اقوام کی ثقافت، زبانوں اور روایتی اقدار کا تحفظ اور فروغ ریاستی پالیسی کا اہم حصہ ہے، اور قوموں کے اتحاد کا سال موجودہ حالات میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات یاکوتیا سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کے سوال کے جواب میں کہی۔
صدر پوتن نے بتایا کہ آئندہ سال یاکوتسک میں ایک منفرد آرکٹک سینٹر آف ایپک اینڈ آرٹس اور ہائیئر اسکول آف میوزک کی نئی عمارت کا افتتاح کیا جائے گا، جو ان ہی کی ہدایت پر تعمیر کی جا رہی ہے۔ یاکوتیا کی ثقافتی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یاکوت قوم فطری طور پر انتہائی باصلاحیت ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں موسیقی اور فنونِ لطیفہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
صدر پوتن نے یاکوتیا کی فلم انڈسٹری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہیرو آف رشیا آندرے گریگورییف (عرف تُوتا) پر بننے والی نئی فلم کو ریاستی سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا، تاکہ اس کی شوٹنگ اور ملک بھر میں نمائش کو ممکن بنایا جا سکے۔
قوموں کے اتحاد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ خصوصی فوجی آپریشن کے دوران یہ حقیقت مزید واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ محاذِ جنگ پر انسانوں کے درمیان مذہب یا قومیت کا فرق بے معنی ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول، گولیوں کی بوچھاڑ میں بیٹھے فوجیوں کے لیے سب سے اہم چیز مشترکہ اقدار اور وطن سے وفاداری ہوتی ہے۔
صدر پوتن نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے محاذ پر تعینات دو بریگیڈ کمانڈرز کے درمیان براہِ راست رابطہ کروایا تو ایک داغستانی افسر سے بات کرتے ہوئے دوسرے افسر نے اسے ’’بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا، جو روسی اقوام کے اتحاد کی زندہ مثال ہے۔ ان کے مطابق یہی جذبہ روسی فیڈریشن کو مضبوط بناتا ہے اور آئندہ بھی ریاست اس اتحاد کو مزید مستحکم کرے گی۔
بعد ازاں صدر پوتن نے ٹیکس اصلاحات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ بجٹ میں توازن پیدا کرنے کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) میں اضافہ ایک شفاف اور ناگزیر فیصلہ تھا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس میں اضافے کا مقصد مستقل بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ مستقبل میں معیشت مستحکم ہونے کے بعد ٹیکس بوجھ میں کمی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
صدر پوتن نے زور دیا کہ حکومت کی ترجیح شیڈو اکانومی کا خاتمہ اور ٹیکس چوری کی روک تھام ہے، تاکہ محصولات میں اضافہ صرف کاغذی نہ رہے بلکہ حقیقی آمدن میں تبدیل ہو۔
واضح رہے کہ صدر پوتن کی سالانہ براہِ راست گفتگو کو روس میں عوام اور قیادت کے درمیان اہم مکالمہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں قومی اتحاد، معیشت اور سلامتی جیسے کلیدی امور پر ریاستی مؤقف سامنے آتا ہے۔









