ماسکو(وائس آف رشیا) وزارتِ دفاع کے اجلاس میں صدر پوتن کا اہم خطاب، روسی فوج کی برتری اور اسٹریٹجک اہداف کا اعلان.
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے وزارتِ دفاع کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج نے خصوصی فوجی آپریشن کے دوران محاذِ جنگ پر اسٹریٹجک برتری حاصل کر لی ہے اور دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کیا جا رہا ہے۔ اجلاس ماسکو میں قومی دفاعی کنٹرول سینٹر میں منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔
صدر پوتن نے کہا کہ رواں سال کے دوران 300 سے زائد آبادیوں کو آزاد کرایا جا چکا ہے، جن میں وہ بڑے شہر بھی شامل ہیں جنہیں دشمن نے مضبوط قلعوں میں تبدیل کر رکھا تھا۔ ان کے مطابق روسی افواج نہ صرف آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ دشمن کی نام نہاد ایلیٹ فورسز کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جنہیں مغربی ممالک کی تربیت اور جدید ہتھیار حاصل تھے۔
صدر پوتن نے شمالی کوریا کے فوجی اہلکاروں کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کرسک ریجن کی آزادی اور بارودی سرنگوں کی صفائی میں روسی افواج کے شانہ بشانہ اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر وطن کے لیے جان قربان کرنے والے فوجیوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل فوجی امداد، مشیروں اور انٹیلیجنس تعاون کے باوجود روسی فوج نے اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر پوتن کے مطابق روسی دفاعی صنعت نے قلیل وقت میں خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور فوج کو جدید ہتھیار، ڈرونز، روبوٹک سسٹمز اور درست نشانہ بنانے والے میزائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
خطاب میں انکشاف کیا گیا کہ روس نے نئے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے کامیاب تجربات بھی مکمل کر لیے ہیں، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل بوریویسٹنک اور بغیر عملے کے زیرِ آب نظام پوسائیڈن شامل ہیں۔ صدر پوتن نے بتایا کہ رواں سال کے اختتام تک ہائپرسونک میزائل سسٹم “اوریشنک” کو بھی جنگی ڈیوٹی پر تعینات کر دیا جائے گا۔
صدر پوتن نے واضح کیا کہ روس کا مؤقف ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری پر مبنی رہا ہے، تاہم اگر بات چیت کے دروازے بند کیے گئے تو روس اپنے تاریخی علاقوں کے دفاع اور تحفظ کے لیے تمام ذرائع استعمال کرے گا۔ انہوں نے یورپ میں روس کے خلاف پھیلائے جانے والے خوف کو بے بنیاد اور پروپیگنڈا قرار دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر صدر پوتن نے کہا کہ روسی مسلح افواج ملکی خودمختاری، سلامتی اور مستقبل کی ضمانت ہیں، اور فوج کی جدید کاری، سماجی تحفظ اور اہلکاروں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود ریاست کی اولین ترجیح رہے گی۔









