پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد صرف انسانی امداد کے لیے کھولی، تجارت بدستور معطل: دفتر خارجہ

اسلام آباد (وائس آف رشیا) پاکستان کے دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدیں صرف انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کھولی گئی ہیں، جبکہ تجارتی گزرگاہیں اور عام راہداری مکمل طور پر بند رہیں گی جب تک کابل سے دہشت گردی کی روک تھام کی پختہ یقین دہانی موصول نہیں ہوتی۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کی سرحدی پابندیاں مکمل طور پر سکیورٹی خدشات کے تناظر میں ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نہیں چاہتا کہ دہشت گرد یا مسلح عناصر سرحد عبور کر کے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنائیں۔

سعودی عرب میں پاک–افغان مذاکرات؟

ترجمان نے میڈیا رپورٹس سے متعلق بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات کے حوالے سے ان کے پاس کوئی نئی تفصیلات نہیں ہیں۔

ترکیہ کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

دفترِ خارجہ نے ترکیہ کے صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ترک ثالثی وفد کو خوش آمدید کہے گا۔ تاہم ان کے مطابق وفد کے نہ آنے کی ممکنہ وجہ شیڈول کا مسئلہ یا طالبان کی جانب سے تعاون کی کمی ہو سکتی ہے۔

افغانستان سے سکیورٹی خدشات برقرار

انہوں نے کہا کہ بارڈر اسی وقت کھولا جائے گا جب افغانستان یہ ضمانت دے کہ دہشت گرد اور پرتشدد گروہ پاکستان میں داخل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں؛ افغان شہری بھی مختلف سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔

سرحد صرف امدادی راہداری کے لیے کھلی

ترجمان کے مطابق فی الوقت سرحد صرف اقوام متحدہ کے امدادی سامان کے لیے کھولی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں، مگر بارڈر پالیسی مکمل طور پر سکیورٹی بنیادوں پر ہے۔

کرغزستان کے صدر کا دورہ پاکستان

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کرغزستان کے صدر کے پاکستان دورے کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ روابط کے فروغ اور تجارت کو 2027-28 تک 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔ دورے کے دوران 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

بابری مسجد کی 33ویں برسی

ترجمان نے بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی ورثے کی حفاظت عالمی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بھارتی مسلمانوں کے بڑھتے احساسِ محرومی پر بھی تشویش ظاہر کی۔

بھارت–افغانستان روابط پر ردعمل

انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی معمول کی سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں پر اعتراض نہیں، لیکن جب کوئی تیسرا ملک پاکستان کے تزویراتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے تعاون بڑھائے تو یہ تشویشناک ہوتا ہے۔ پاکستان اس معاملے کی مسلسل نگرانی کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں