ٹرمپ کے ایٹمی ٹیسٹ کے اعلان پر روس کو کوئی وضاحت موصول نہیں ہوئی، روسی وزارت خارجہ

ماسکو (وائس آف رشیا) روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا ہے کہ ماسکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی تجربات سے متعلق بیان کی وضاحت طلب کی تھی، تاہم واشنگٹن کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بین الاقوامی امور کے جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں ریابکوف نے بتایا کہ روس نے استفسار کیا تھا کہ آیا یہ تجربات محض ڈلیوری سسٹمز کے “کریٹیکل ٹیسٹ” ہیں، جن میں چین ری ایکشن شامل نہیں ہوتا، یا پھر حقیقی ایٹمی دھماکوں پر مشتمل تجربات کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ہمیں اس بارے میں کوئی سرکاری وضاحت موصول نہیں ہوئی.

نائب وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ میں اس معاملے پر “ایک خاص نوعیت کا ابہام یا تضاد” محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے حالیہ عرصے میں متعدد سرگرمیاں انجام دی ہیں جن میں منٹ مین بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ لانچ بھی شامل ہے۔

ریابکوف نے یہ بھی بتایا کہ روس اپنے جدید اسٹریٹجک سسٹمز — پوسائیڈن اور بورویسنیك — کے تجربات پہلے ہی کر چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صدر ولادیمیر پوتن اس موضوع پر واضح ہدایات جاری کر چکے ہیں:

صدر نے جو ہدایات دیں، ہم انہیں پوری طرح نافذ کر رہے ہیں۔

ریابکوف کے مطابق وزارتِ خارجہ دیگر محکموں کے ساتھ مل کر اس ہدایت پر عمل درآمد یقینی بنا رہی ہے، جس میں ممکنہ مستقبل کے تجربات کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری کی ضرورت کا جائزہ بھی شامل ہے۔
” انہوں نے مزید کہا کہ ہم ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے۔ فی الحال ہم صدر کے احکامات کے مطابق معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور تجزیہ کر رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں