ماسکو:(وائس آف رشیا) یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے دفتر کے سربراہ کیرل بودانوف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اپنے حالیہ دورہ کیف کے دوران کوئی بنیادی طور پر نئی تجاویز لے کر نہیں آئے۔
کیرل بودانوف، جنہیں روس میں دہشت گرد اور انتہا پسند افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، نے نووستی لائیو کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی بالکل نئی تجویز سامنے نہیں آئی، تاہم پہلے سے موجود تجاویز کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرانے مسائل کے حل کے لیے نئے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ کیرل بودانوف کے مطابق امریکی نمائندوں کے دورے کے بعد مذاکراتی عمل میں دوبارہ تیزی آئی ہے۔
اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے 5 ستمبر کو ماسکو کا دورہ کیا تھا، جہاں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ان سے ملاقات کی۔
امریکی نمائندوں نے اگلے روز کیف میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔
یوکرینی پارلیمنٹ ورخوونا رادا کی رکن انا سکوروخود کے مطابق امریکی نمائندے یوکرین کے لیے امن کی ایسی شرائط لے کر آئے تھے جو سابقہ شرائط کے مقابلے میں زیادہ سخت تھیں۔









