یوکرین امن مذاکرات دوبارہ ابوظہبی میں ہوسکتے ہیں: یوری اوشاکوف

ماسکو:(وائس آف رشیا) روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ اگر روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی امن مذاکرات بحال ہوتے ہیں تو ابوظہبی ایک مرتبہ پھر ان مذاکرات کی میزبانی کرسکتا ہے۔

ویسٹی کے نمائندے پاویل زاروبن سے گفتگو کرتے ہوئے یوری اوشاکوف نے کہا کہ واشنگٹن یوکرین میں فوجی کارروائیاں جلد ختم کرانے میں مدد کے لیے کیف کو براہ راست امداد کی فراہمی روک سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو سب سے پہلے ممکنہ طور پر کیف کو ہر قسم کی امداد فراہم کرنا بند کرنی چاہیے۔

روسی صدر کے معاون نے کہا کہ سابق امریکی صدور کے ادوار میں کیف کو بڑے پیمانے پر امداد فراہم کی جاتی رہی، جس میں فوجی امداد بھی شامل تھی۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ دور حکومت میں یوکرین کے لیے امریکی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

یوکرین تنازع کے پرامن تصفیے کے لیے کسی نقشۂ راہ سے متعلق یوری اوشاکوف نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ایسا کوئی نقشۂ راہ نہیں دیکھا اور ان کے خیال میں شاید کسی اور نے بھی نہیں دیکھا۔

سہ فریقی مذاکرات کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے روسی صدر کے معاون نے بتایا کہ ماسکو اور واشنگٹن نے یوکرین کے ساتھ پرامن تصفیے کے لیے رابطوں کی بحالی کے امکان پر بات چیت کی ہے، جس میں سہ فریقی مذاکرات بھی شامل ہیں۔

یوری اوشاکوف نے کہا کہ یوکرینی فریق کے ساتھ بعض رابطے موجود ہیں، تاہم اس وقت یوکرین کے ساتھ اس مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات ہورہی ہے جو اس سے قبل بھی جاری رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ روس نے اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے، اس لیے مذاکراتی عمل سہ فریقی شکل میں دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔

روسی صدر کے معاون نے کہا کہ روس، امریکا اور یوکرین کے نمائندوں نے اس سے قبل ابوظہبی میں ملاقاتیں کی تھیں اور سہ فریقی مذاکرات بحال ہونے کی صورت میں مزید ملاقاتیں بھی وہاں منعقد ہوسکتی ہیں۔

صدر ولادیمیر پوتن کی امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے یوری اوشاکوف نے کہا کہ مجموعی طور پر بات چیت تعمیری تھی، تاہم اس دوران سب سے زیادہ اختلافی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ رابطہ نہ صرف تعمیری بلکہ بامقصد اور عملی نوعیت کا بھی تھا۔

یوری اوشاکوف نے کہا کہ یہی الفاظ صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک روز قبل ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلی فونک گفتگو جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کے ماسکو اور کیف کے دوروں کے بعد ہونے والی پیش رفت کا تسلسل تھی۔

روسی صدر کے معاون کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ان دوروں سے متعلق صورت حال اور روس امریکا دوطرفہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے ساتھ یوکرین بحران کے حل کی کوششوں میں پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کے ممکنہ آئندہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں