صدر پوتن کا کیف پر حملے تین روز کے لیے معطل کرنے کا حکم، کریملن

ماسکو:(وائس آف رشیا) صدر ولادیمیر پوتن نے کیف میں امریکی مذاکرات کاروں کی مشاورت کے پیش نظر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے یوکرینی دارالحکومت پر حملے تین روز کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاس کو بتایا کہ یہ فیصلہ کیف میں امریکی مذاکرات کاروں کی مجوزہ مشاورت کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل یوکرینی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ یوکرینی فوج 5 ستمبر کی نصف شب سے 8 ستمبر تک جنگ بندی کی پابندی کرے گی۔

دیمتری پیسکوف سے پوچھا گیا کہ کیا کریملن یوکرین کی جانب سے جنگ بندی کی اطلاعات سے آگاہ ہے اور کیا روس بھی اسی نوعیت کا قدم اٹھائے گا۔

اس کے جواب میں روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ روسی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر انچیف ولادیمیر پوتن نے آج نصف شب سے کیف پر حملے تین روز کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس فیصلے کا تعلق امریکی نمائندوں کی ان مشاورت سے ہے جن کی تیاری کی جا رہی ہے اور جو کیف میں منعقد ہوں گی۔

امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کے روز ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ دیمتری پیسکوف کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن کی دونوں امریکی نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے۔

ماسکو میں مذاکرات کے بعد اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کیف روانہ ہوں گے۔

اس سے قبل صدر ولادیمیر پوتن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا روس میں ہمیشہ خیرمقدم کیا جاتا ہے اور ماسکو کو ان کے ساتھ کام کرنے پر خوشی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن کی شٹل سفارت کاری یوکرین تنازع کے حل کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس کے لیے ایک اور سفارتی مشن پر روانہ ہوں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ واشنگٹن کے پاس اس حوالے سے ایک واضح تصور موجود ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کس نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں